1 فروری 2013 - 20:30

صدر مملکت جناب ڈاکٹر احمدي نژاد نے آج تہران ميں شام کے مفتئ اعظم " بدرالدين حسون " کے ساتھ ملاقات کے دوران شام کے موجودہ صورت حالات پر تبادلہ خیال کيا۔

ابنا: ڈاکٹر احمدي نژاد نے اس بات کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ ملت ايران ، شام کے عوام کے ساتھہ باہمي ہمدلي کا احساس کرتي ہے کہا کہ عالمي سامراج کے منصوبہ سازوں نے اگر چہ شام کے عوام کے لئے صورت حال نہايت ہيچيدہ بنا دي ہے ليکن اس ميں کسي قسم کا شک نہيں کہ شام کے عوام عزت و آبرو کے ساتھہ موجودہ بحران سے باہر نکل آئے گي کيونکہ استکباري اور استعماري نظام اپني اخري سانسيں لے رہا ہے۔صدر مملکت نے کہا کہ صيہونيوں کے پاس بچنے کا کوئي راستہ نہيں ہے، انہوں نے کہا کہ مستقبل قريب ميں علاقہ صيہونيوں کے وجود سے پاک ہوجائے گا اور شام کي قوم نيز علاقے کي ديگر اقوام کو سکون اور سربلندي حاصل ہوگي۔ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ استعماري طاقتوں نے آج آزادي ، ڈيموکريسي اور انساني حقوق کے نعرے لگانے شروع کرديئے ہيں البتہ يہ تمام نعرے اچھے اور خوبصورت ہيں ليکن وہ چيز کہ جو اہميت کي حامل ہے يہ ہے کہ يہ نعرے کس نيت کے ساتھہ لگائے جارہے ہيں۔اس ملاقات ميں شام کے مفتئ اعظم جناب بدرالدين حسون نے بھي پيغمبراکرم(ص)، ايران کے اسلامي انقلاب کي کاميابي کي سالگرہ اور عشرۂ فجر کي مناسبت سے مبارک باد پيش کرتے ہوے کہا کہ ايران کا اسلامي انقلاب نہ صرف ايراني قوم بلکہ دنيا کے تمام آزاد فکر لوگوں کا انقلاب ہے۔شام کے مفتئ اعظم نے ايران اور شام سميت تمام آزاد و خود مختار قوموں کے خلاف دشمنوں کے دباؤ اور پابنديوں کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم ايمان اور مزاحمت کے ايک محاذ ميں کھڑے ہوئے ہيں۔بدرالدين حسون نے مسلمانوں کے درميان مذہبي اختلافات پيدا کرنے کے لئے عالمي سامراج کي سرگرميوں اور اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے مسلمانوں کے درميان اتحاد و وحدت اور سازشوں کے مقابلے ميں ہوشياري کي ضرورت پر زور ديا۔